کون و مکاں

قسم کلام: اسم ظرف

معنی

١ - دنیا، جہاں، عالم۔  مستی میں رازِ کون و مکاں برملا کہیں پر کیا کروں مغاں کا اشارا نہیں مجھے      ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق دو اسما بالترتیب 'کون' اور 'مکان' کو عربی ہی سے ماخوذ حرف اضافت 'و' کے ذریعے ملانے سے مرکب اضافی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٧٢ء کو "دیوان عبداللہ قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر